پتھر نہ پھینک دیکھ ذرا احتیاط کر
ہے سطح آب پر کوئی چہرہ بنا ہوا
شہزاد احمد
رہنے دیا نہ اس نے کسی کام کا مجھے
اور خاک میں بھی مجھ کو ملا کر نہیں گیا
شہزاد احمد
روشن بھی کرو گے کبھی تاریکئ شب کو
یا شمع کی مانند پگھلتے ہی رہوگے
شہزاد احمد
ساری مخلوق تماشے کے لیے آئی تھی
کون تھا سیکھنے والا ہنر پروانہ
شہزاد احمد
سب کی طرح تو نے بھی مرے عیب نکالے
تو نے بھی خدایا مری نیت نہیں دیکھی
شہزاد احمد
سفر بھی دور کا ہے اور کہیں نہیں جانا
اب ابتدا اسے کہیے کہ انتہا کہیے
شہزاد احمد
سفر شوق ہے بجھتے ہوئے صحراؤں میں
آگ مرہم ہے مرے پاؤں کے چھالوں کے لیے
شہزاد احمد
سحر لگتا ہے پسینے میں نہایا ہوا جسم
یہ عجب نیند میں ڈوبی ہوئی بے داری ہے
شہزاد احمد
شاید اسی باعث ہوئیں پتھر مری آنکھیں
جو کچھ کہ مجھے دیکھنا تھا دیکھ لیا ہے
شہزاد احمد

