یار ہوتے تو مجھے منہ پہ برا کہہ دیتے
بزم میں میرا گلا سب نے کیا میرے بعد
شہزاد احمد
ویران تو نہیں شب تاریک کی فضا
ہر سو ہوائے بادہ سے کچھ روشنی تو ہے
شہزاد احمد
واقعہ یہ ہے کہ رستہ اور ویراں ہو گیا
پیڑ تو اپنی طرف سے پھول برساتے رہے
شہزاد احمد
واقعہ کچھ بھی ہو سچ کہنے میں رسوائی ہے
کیوں نہ خاموش رہوں اہل نظر کہلاؤں
شہزاد احمد
اٹھی ہیں میری خاک سے آفات سب کی سب
نازل ہوئی نہ کوئی بلا آسمان سے
شہزاد احمد
اس کو خبر ہوئی تو بدل جائے گا وہ رنگ
احساس تک نہ اس کو دلا اور دیکھ لے
شہزاد احمد
عمر جتنی بھی کٹی اس کے بھروسے پہ کٹی
اور اب سوچتا ہوں اس کا بھروسہ کیا تھا
شہزاد احمد
عمر بھر سنتا رہوں اپنی صدا کی بازگشت
یا تری آواز بھی آئے گی میرے کان میں
شہزاد احمد
عمر بھر اپنے گریباں سے الجھنے والے
تو مجھے میرے ہی سائے سے ڈراتا کیا ہے
شہزاد احمد

