ذرا سا غم ہوا اور رو دیے ہم
بڑی نازک طبیعت ہو گئی ہے
شہزاد احمد
تیری قربت میں گزارے ہوئے کچھ لمحے ہیں
دل کو تنہائی کا احساس دلانے والے
شہزاد احمد
شک اپنی ہی ذات پہ ہونے لگتا ہے
اپنی باتیں دوسروں سے جب سنتے ہیں
شہزاد احمد
شمع جلتے ہی یہاں حشر کا منظر ہوگا
پھر کوئی پا نہ سکے گا خبر پروانہ
شہزاد احمد
شوق سفر بے سبب اور سفر بے طلب
اس کی طرف چل دیے جس نے پکارا نہ تھا
شہزاد احمد
شمار میں نہ کروں گا فراق کے شب و روز
وہیں سے بات چلے گی جہاں سے ٹوٹی تھی
شہزاد احمد
سینے میں بے قرار ہیں مردہ محبتیں
ممکن ہے یہ چراغ کبھی خود ہی جل پڑے
شہزاد احمد
ستارے اس قدر دیکھے کہ آنکھیں بجھ گئیں اپنی
محبت اس قدر کر لی محبت چھوڑ دی ہم نے
شہزاد احمد
سپردگی کا وہ لمحہ کبھی نہیں گزرا
ہزار بار مرے ہم ہزار بار جیے
شہزاد احمد

