اب اپنے چہرے پر دو پتھر سے سجائے پھرتا ہوں
آنسو لے کر بیچ دیا ہے آنکھوں کی بینائی کو
شہزاد احمد
اب بھی وہی دن رات ہیں لیکن فرق یہ ہے
پہلے بولا کرتے تھے اب سنتے ہیں
شہزاد احمد
اب جہاں میں ہوں وہاں میرے سوا کچھ بھی نہیں
میں اسی صحرا میں رہتا تھا مگر تنہا نہ تھا
شہزاد احمد
اب مرا درد مری جان ہوا جاتا ہے
اے مرے چارہ گرو اب مجھے اچھا نہ کرو
شہزاد احمد
اب تو انسان کی عظمت بھی کوئی چیز نہیں
لوگ پتھر کو خدا مان لیا کرتے تھے
شہزاد احمد
اب تو صاف سنتا ہوں اپنے دل کی ہر دھڑکن
اور کیا دکھائے گی یہ طویل تنہائی
شہزاد احمد
اگر دو دل کہیں بھی مل گئے ہیں
زمانے کو شکایت ہو گئی ہے
شہزاد احمد
اے صبح کی کرن مجھے پیاری ہے تو بہت
تجھ سے لپٹ پڑوں گا اگر جاگتا ہوا
شہزاد احمد
عجب نہیں کہ اسی بات پر لڑائی ہو
معاہدہ یہ ہوا ہے کہ اب لڑیں گے نہیں
شہزاد احمد

