EN हिंदी
شہزاد احمد شیاری | شیح شیری

شہزاد احمد شیر

192 شیر

شاید لوگ اسی رونق کو گرمئ محفل کہتے ہیں
خود ہی آگ لگا دیتے ہیں ہم اپنی تنہائی کو

شہزاد احمد




شب ڈھل گئی اور شہر میں سورج نکل آیا
میں اپنے چراغوں کو بجھاتا نہیں پھر بھی

شہزاد احمد




شب کی تنہائیوں میں یاد اس کی
جھلملاتا ہوا دیا جیسے

شہزاد احمد