بھول کر بھی کوئی لیتا نہیں اب نام وفا
عشق اس شہر میں گردن زدنی ہو جیسے
شہزاد احمد
بگڑی ہوئی اس شہر کی حالت بھی بہت ہے
جاؤں بھی کہاں اس سے محبت بھی بہت ہے
شہزاد احمد
بجھ گئی شمع کٹی رات گئی سب محفل
اب اکیلے ہی کٹے گا سفر پروانہ
شہزاد احمد
چاہے اب آپ بھی مجھے آسیب ہی کہیں
خود منتخب کیا ہے یہ اجڑا ہوا مکاں
شہزاد احمد
چاہتا ہوں کہ ہو پرواز ستاروں سے بلند
اور مرے حصے میں ٹوٹے ہوئے بازو آئے
شہزاد احمد
چھوڑنے میں نہیں جاتا اسے دروازے تک
لوٹ آتا ہوں کہ اب کون اسے جاتا دیکھے
شہزاد احمد
چھپ چھپ کے کہاں تک ترے دیدار ملیں گے
اے پردہ نشیں اب سر بازار ملیں گے
شہزاد احمد
چپ کے عالم میں وہ تصویر سی صورت اس کی
بولتی ہے تو بدل جاتی ہے رنگت اس کی
شہزاد احمد
دس بجے رات کو سو جاتے ہیں خبریں سن کر
آنکھ کھلتی ہے تو اخبار طلب کرتے ہیں
شہزاد احمد

