یہ چاند ہی تری جھولی میں آ پڑے شاید
زمیں پہ بیٹھ کمند آسماں پہ ڈالے جا
شہزاد احمد
یہ سمجھ کے مانا ہے سچ تمہاری باتوں کو
اتنے خوبصورت لب جھوٹ کیسے بولیں گے
شہزاد احمد
یوں کس طرح بتاؤں کہ کیا میرے پاس ہے
تو بھی تو کوئی رنگ دکھا اور دیکھ لے
شہزاد احمد
یوں ترک تعلق کی قسم کھائے ہوئے ہوں
جیسے مرے سینے میں کسی اور کا دل ہے
شہزاد احمد
یوں تری یاد میں دن رات مگن رہتا ہوں
دل دھڑکنا ترے قدموں کی صدا لگتا ہے
شہزاد احمد
یوں تو ہم اہل نظر ہیں مگر انجام یہ ہے
ڈھونڈتے ڈھونڈتے کھو دیتے ہیں بینائی تک
شہزاد احمد
زبانیں تھک چکیں پتھر ہوئے کان
کہانی ان کہی تھی ان کہی ہے
شہزاد احمد
زمین ناؤ مری بادباں مرے افلاک
میں ان کو چھوڑ کے ساحل پہ کب اترتا ہوں
شہزاد احمد
ذرا لبوں کے تبسم سے بزم گرمائیں
ہمیں تو آپ کی آنکھوں کی چپ نے مار دیا
شہزاد احمد

