جوہرؔ تمہیں نفرت ہے بہت بادہ کشی سے
برسات میں دیکھیں گے ہم انکار تمہارا
لالہ مادھو رام جوہر
جن کو ہے ابھی نام سے بندی کے تنفر
اللہ نے چاہا تو وہی پیار کریں گے
لالہ مادھو رام جوہر
جس قدر چاہئے بٹھلائیے پہرے در پر
بند رہنے کے نہیں خواب میں آنے والے
لالہ مادھو رام جوہر
جو دوست ہیں وہ مانگتے ہیں صلح کی دعا
دشمن یہ چاہتے ہیں کہ آپس میں جنگ ہو
لالہ مادھو رام جوہر
جو کچھ پڑتی ہے سر پر سب اٹھاتا ہے محبت میں
جہاں دل آ گیا پھر آدمی مجبور ہوتا ہے
لالہ مادھو رام جوہر
کعبہ کی تو کیا اصل ہے اس کوچے سے آگے
جنت ہو تو جائے نہ گنہ گار تمہارا
لالہ مادھو رام جوہر
کعبے میں بھی وہی ہے شوالے میں بھی وہی
دونوں مکان اس کے ہیں چاہے جدھر رہے
لالہ مادھو رام جوہر
کئی بار ان سے پسیجا ہے پتھر
یہ نالے مرے آزمائے ہوئے ہیں
لالہ مادھو رام جوہر
کبھی کھلتا ہی نہیں صاف کچھ اقرار انکار
ہوتے ہیں ان کی ہر اک بات میں پہلو دونوں
لالہ مادھو رام جوہر

