دو ہی دن میں یہ صنم ہوش ربا ہوتے ہیں
کل کے ترشے ہوئے بت آج خدا ہوتے ہیں
لالہ مادھو رام جوہر
دوست دل رکھنے کو کرتے ہیں بہانے کیا کیا
روز جھوٹی خبر وصل سنا جاتے ہیں
لالہ مادھو رام جوہر
دوست دو چار نکلتے ہیں کہیں لاکھوں میں
جتنے ہوتے ہیں سوا اتنے ہی کم ہوتے ہیں
لالہ مادھو رام جوہر
دنیا بہت خراب ہے جائے گزر نہیں
بستر اٹھاؤ رہنے کے قابل یہ گھر نہیں
لالہ مادھو رام جوہر
دنیا سے جانے والوں کو رستے میں غم نہیں
سیدھی سڑک ہے پھیر کی راہ عدم نہیں
لالہ مادھو رام جوہر
فصل گل آتے ہی وحشت ہو گئی
پھر وہی اپنی طبیعت ہو گئی
لالہ مادھو رام جوہر
غیر کو شربت دیدار مبارک تیرا
اب تو پانی بھی پیے گا نہ ترے گھر کا کوئی
لالہ مادھو رام جوہر
غیروں سے تو فرصت تمہیں دن رات نہیں ہے
ہاں میرے لیے وقت ملاقات نہیں ہے
لالہ مادھو رام جوہر
ہائے میں کس کو بتاؤں کون دل کو لے گیا
شکل دیکھی ہے مگر واقف نہیں ہوں نام سے
لالہ مادھو رام جوہر

