موسم باران فرقت میں رلانے کے لیے
مور دن کو بول اٹھتا ہے پپیہا رات کو
لالہ مادھو رام جوہر
میرا ہی خط اس شوخ نے بھیجا مرے آگے
آخر جو لکھا تھا وہی آیا مرے آگے
لالہ مادھو رام جوہر
میری ہی جان کے دشمن ہیں نصیحت والے
مجھ کو سمجھاتے ہیں ان کو نہیں سمجھاتے ہیں
لالہ مادھو رام جوہر
مل بھی جاؤ یوں ہی تم بہر خدا آپ سے آپ
جس طرح ہو گئے ہو ہم سے خفا آپ سے آپ
لالہ مادھو رام جوہر
محبت کو چھپائے لاکھ کوئی چھپ نہیں سکتی
یہ وہ افسانہ ہے جو بے کہے مشہور ہوتا ہے
لالہ مادھو رام جوہر
منہ پر نقاب زرد ہر اک زلف پر گلال
ہولی کی شام ہی تو سحر ہے بسنت کی
لالہ مادھو رام جوہر
مجھے اب آپ نے چھوڑا کہ میں نے
ادھر تو دیکھیے کس نے دغا کی
لالہ مادھو رام جوہر
مختار میں اگر ہوں تو مجبور کون ہے
مجبور آپ ہیں تو کسے اختیار ہے
لالہ مادھو رام جوہر
مشتاق جمع ہیں پئے دیدار سیکڑوں
در پر ہیں سیکڑوں پس دیوار سیکڑوں
لالہ مادھو رام جوہر

