اک اشارہ سر محفل جو کیا اس گل نے
چونکے دس بیس رکے سیکڑوں کھٹکے لاکھوں
لالہ مادھو رام جوہر
الٰہی کیا کھلے دیدار کی راہ
ادھر دروازے بند آنکھیں ادھر بند
لالہ مادھو رام جوہر
اس بلا کو تو خدا جلد کرے شہر بدر
کالے پانی کو روانہ شب ہجراں ہو جائے
لالہ مادھو رام جوہر
اس قمر کو کبھی تو دیکھیں گے
تیس دن ہوتے ہیں مہینے کے
لالہ مادھو رام جوہر
اس طرف دیر ادھر کعبہ کدھر کو جاؤں
اس دوراہے میں کہاں یار رہا کرتا ہے
لالہ مادھو رام جوہر
استخارے کے لیے باغ میں ہم رندوں نے
بارہا دانۂ انگور کی کی ہے تسبیح
لالہ مادھو رام جوہر
جب کبھی میں نے یہ پوچھا کہ خطا کس کی ہے
بے دھڑک بول اٹھے تیرے سوا کس کی ہے
لالہ مادھو رام جوہر
جب کہتے ہیں ہم کرتے ہو کیوں وعدہ خلافی
فرماتے ہیں ہنس کر یہ نئی بات نہیں ہے
لالہ مادھو رام جوہر
جناب شیخ کو سوجھے نہ پھر حرام و حلال
ابھی پئیں جو ملے مفت کی شراب کہیں
لالہ مادھو رام جوہر

