EN हिंदी
وقف شیاری | شیح شیری

وقف

69 شیر

اور کیا چاہتی ہے گردش ایام کہ ہم
اپنا گھر بھول گئے ان کی گلی بھول گئے

جون ایلیا




یہ ناگزیر ہے امید کی نمو کے لیے
گزرتا وقت کہیں تھم گیا تو کیا ہوگا؟

جواد شیخ




یا وہ تھے خفا ہم سے یا ہم ہیں خفا ان سے
کل ان کا زمانہ تھا آج اپنا زمانا ہے

جگر مراد آبادی




وقت پوجے گا ہمیں وقت ہمیں ڈھونڈے گا
اور تم وقت کے ہمراہ چلو گے یارو

خلیق قریشی




تو مجھے بنتے بگڑتے ہوئے اب غور سے دیکھ
وقت کل چاک پہ رہنے دے نہ رہنے دے مجھے

خورشید رضوی




ہمیں ہر وقت یہ احساس دامن گیر رہتا ہے
پڑے ہیں ڈھیر سارے کام اور مہلت ذرا سی ہے

خورشید طلب




وقت کی گردشوں کا غم نہ کرو
حوصلے مشکلوں میں پلتے ہیں

محفوظ الرحمان عادل