EN हिंदी
وقف شیاری | شیح شیری

وقف

69 شیر

سیل زماں میں ڈوب گئے مشہور زمانہ لوگ
وقت کے منصف نے کب رکھا قائم ان کا نام

انور سدید




زلف تھی جو بکھر گئی رخ تھا کہ جو نکھر گیا
ہائے وہ شام اب کہاں ہائے وہ اب سحر کہاں

اصغر گونڈوی




وقت کی سعیٔ مسلسل کارگر ہوتی گئی
زندگی لحظہ بہ لحظہ مختصر ہوتی گئی

اسرار الحق مجاز




یہ محبت کا فسانہ بھی بدل جائے گا
وقت کے ساتھ زمانہ بھی بدل جائے گا

اظہر لکھنوی




الگ سیاست درباں سے دل میں ہے اک بات
یہ وقت میری رسائی کا وقت ہے کہ نہیں

عزیز حامد مدنی




وقت کا پتھر بھاری ہوتا جاتا ہے
ہم مٹی کی صورت دیتے جاتے ہیں

باقی صدیقی




وقت کے پاس ہیں کچھ تصویریں
کوئی ڈوبا ہے کہ ابھرا دیکھو

باقی صدیقی