EN हिंदी
وفا شیاری | شیح شیری

وفا

80 شیر

مجھ سے کیا ہو سکا وفا کے سوا
مجھ کو ملتا بھی کیا سزا کے سوا

حفیظ جالندھری




وفا جس سے کی بے وفا ہو گیا
جسے بت بنایا خدا ہو گیا

I was constant but she eschewed fidelity
the one I idolized, alas, claimed divinity

حفیظ جالندھری




وفا کا لازمی تھا یہ نتیجہ
سزا اپنے کیے کی پا رہا ہوں

حفیظ جالندھری




وفاؤں کے بدلے جفا کر رہے ہیں
میں کیا کر رہا ہوں وہ کیا کر رہے ہیں

حفیظ جالندھری




ان کی جفاؤں پر بھی وفا کا ہوا گماں
اپنی وفاؤں کو بھی فراموش کر دیا

حمید جالندھری




یہ جفاؤں کی سزا ہے کہ تماشائی ہے تو
یہ وفاؤں کی سزا ہے کہ پئے دار ہوں میں

حامد مختار حامد




وفا پرچھائیں کی اندھی پرستش
محبت نام ہے محرومیوں کا

حسن اکبر کمال