EN हिंदी
اشق شیاری | شیح شیری

اشق

422 شیر

جس کی ہوس کے واسطے دنیا ہوئی عزیز
واپس ہوئے تو اس کی محبت خفا ملی

ساقی فاروقی




راستہ دے کہ محبت میں بدن شامل ہے
میں فقط روح نہیں ہوں مجھے ہلکا نہ سمجھ

ساقی فاروقی




میں چاہتا ہوں اسے اور چاہنے کے سوا
مرے لیے تو کوئی اور راستا بھی نہیں

سعود عثمانی




وصال یار سے دونا ہوا عشق
مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی

شاد لکھنوی




عشق کی ابتدا تو جانتے ہیں
عشق کی انتہا نہیں معلوم

شفیق جونپوری




شدید پیاس تھی پھر بھی چھوا نہ پانی کو
میں دیکھتا رہا دریا تری روانی کو

شہریار




یوں تری یاد میں دن رات مگن رہتا ہوں
دل دھڑکنا ترے قدموں کی صدا لگتا ہے

شہزاد احمد