EN हिंदी
انتر شیاری | شیح شیری

انتر

93 شیر

کب وہ آئیں گے الٰہی مرے مہماں ہو کر
کون دن کون برس کون مہینہ ہوگا

مبارک عظیم آبادی




تمام جسم کو آنکھیں بنا کے راہ تکو
تمام کھیل محبت میں انتظار کا ہے

منور رانا




اب کون منتظر ہے ہمارے لیے وہاں
شام آ گئی ہے لوٹ کے گھر جائیں ہم تو کیا

منیر نیازی




یہ کیسا نشہ ہے میں کس عجب خمار میں ہوں
تو آ کے جا بھی چکا ہے، میں انتظار میں ہوں

منیر نیازی




اللہ رے بے خودی کہ ترے پاس بیٹھ کر
تیرا ہی انتظار کیا ہے کبھی کبھی

o lord! There are times when such is my raptured state
even though I am with you, and yet for you I wait

نریش کمار شاد




ترے آنے کا دھوکا سا رہا ہے
دیا سا رات بھر جلتا رہا ہے

ناصر کاظمی




اسی خیال میں ہر شام انتظار کٹی
وہ آ رہے ہیں وہ آئے وہ آئے جاتے ہیں

نظر حیدرآبادی