EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

جو پلکوں سے گر جائے آنسو کا قطرہ
جو پلکوں میں رہ جائے گا وہ گہر ہے

فواد احمد




روٹھے لوگوں کو منانے میں مزہ آتا ہے
جان کر آپ کو ناراض کیا ہے میں نے

فواد احمد




تم مجھے چھوڑ کے اس طرح نہیں جا سکتے
اس تعلق پہ بہت ناز کیا ہے میں نے

فواد احمد




وہ جس کا نام پڑا ہے خموش لوگوں میں
یہاں پہ لفظوں کے دریا بہا رہا تھا ابھی

فواد احمد




اب کے روٹھے تو منانے نہیں آیا کوئی
بات بڑھ جائے تو ہو جاتی ہے کم آپ ہی آپ

ف س اعجاز




اچھی خاصی رسوائی کا سبب ہوتی ہے
دوسری عورت پہلی جیسی کب ہوتی ہے

ف س اعجاز




ہزاروں سال کی تھی آگ مجھ میں
رگڑنے تک میں اک پتھر رہا تھا

ف س اعجاز