EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

مرا روتا بچہ بہلتا تھا جس سے
وہ لکڑی کا ہاتھی اٹھا لے گیا وہ

ف س اعجاز




تجھ کو منظور نہیں مجھ کو ہے اب بھی منظور
میری قربت مرے بوسے مجھے واپس کر دے

ف س اعجاز




بڑھانا ہاتھ پکڑنے کو رنگ مٹھی میں
تو تتلیوں کے پروں کا دراز ہو جانا

فیاض فاروقی




جب ان کی بزم میں ہر خاص و عام رسوا ہے
عجیب کیا ہے اگر میرا نام رسوا ہے

فیاض فاروقی




جگنو ہوا میں لے کے اجالے نکل پڑے
یوں تیرگی سے لڑنے جیالے نکل پڑے

فیاض فاروقی




کیسے ممکن ہے کہ قصے جس سے سب وابستہ ہوں
وہ چلے اور ساتھ اس کے داستاں کوئی نہ ہو

فیاض فاروقی




راہ میں اس کی چلیں اور امتحاں کوئی نہ ہو
کیسے ممکن ہے کہ آتش ہو دھواں کوئی نہ ہو

فیاض فاروقی