EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

اس کی جانب سے بڑھا ایک قدم
میرے سو سال بڑھا دیتا ہے

فریحہ نقوی




وہ خدا ہے تو بھلا اس سے شکایت کیسی؟
مقتدر ہے وہ ستم مجھ پہ جو ڈھانا چاہے

فریحہ نقوی




زمانے اب ترے مد مقابل
کوئی کمزور سی عورت نہیں ہے

فریحہ نقوی




اللہ کے بندوں کی ہے دنیا ہی نرالی
کانٹے کوئی بوتا ہے تو اگتے ہیں گلستاں

فاروق بانسپاری




غم عشق ہی نے کاٹی غم عشق کی مصیبت
اسی موج نے ڈبویا اسی موج نے ابھارا

فاروق بانسپاری




کسی کی راہ میں فاروقؔ برباد وفا ہو کر
برا کیا ہے کہ اپنے حق میں اچھا کر لیا میں نے

فاروق بانسپاری




مرے ناخدا نہ گھبرا یہ نظر ہے اپنی اپنی
ترے سامنے ہے طوفاں مرے سامنے کنارا

فاروق بانسپاری