EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

لڑکھڑانا نہیں مجھے پھر بھی
تم مرا ہاتھ تھام کر رکھنا

فریحہ نقوی




مرے ہجر کے فیصلے سے ڈرو تم
میں خود میں عجب حوصلہ دیکھتی ہوں

فریحہ نقوی




رات سے ایک سوچ میں گم ہوں
کس بہانے تجھے کہوں آ جا

فریحہ نقوی




تم مری وحشتوں کے ساتھی تھے
کوئی آسان تھا تمہیں کھونا؟

فریحہ نقوی




تمہارے رنگ پھیکے پڑ گئے ناں؟
مری آنکھوں کی ویرانی کے آگے

فریحہ نقوی




تمہیں پانے کی حیثیت نہیں ہے
مگر کھونے کی بھی ہمت نہیں ہے

فریحہ نقوی




تمہیں پتا ہے مرے ہاتھ کی لکیروں میں
تمہارے نام کے سارے حروف بنتے ہیں

فریحہ نقوی