EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

بھٹک نہ جاتا اگر ذات کے بیاباں میں
تو میرا نقش قدم میرا راہبر ہوتا

فاروق نازکی




حصار خوف و ہراس میں ہے بتان وھم و گماں کی بستی
مجھے خبر ہی نہیں کہ اب میں جنوب میں یا شمال میں ہوں

فاروق نازکی




جب کوئی نوجوان مرتا ہے
آرزو کا جہان مرتا ہے

فاروق نازکی




جنوں آثار موسم کا پتہ کوئی نہیں دے گا
تجھے اے دشت تنہائی صدا کوئی نہیں دے گا

فاروق نازکی




کانچ کے الفاظ کاغذ پر نہ رکھ
سنگ معنی بن کے ٹکراؤں گا میں

فاروق نازکی




میں ہوں مضطرؔ بدن کی نگری میں
میرے حصے میں لا مکاں لکھنا

فاروق نازکی




مجھ سے کیا پوچھتے ہو نام پتہ
میں تو بس آپ کا ہی سایہ ہوں

فاروق نازکی