EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

قدروں کی حدیں توڑ نئی طرح نکال
دم تجھ میں اگر ہے تو باغی ہو جا

فاروق نازکی




سنگ پرستوں کی بستی میں شیشہ گروں کی خیر نہیں ہے
جن کی آنکھیں نور سے خالی ان کے دل ہیں آہن آہن

فاروق نازکی




ستارے بوتی رہیں نیند سے تہی آنکھیں
ادھر یہ حال کہ دامن بھی تر نہیں ہوتا

فاروق نازکی




سنا ہے لوگ وہاں مجھ سے خار کھاتے ہیں
فسانہ عام جہاں میری بے بسی کا ہے

فاروق نازکی




تو خدا ہے تو بجا مجھ کو ڈراتا کیوں ہے
جا مبارک ہو تجھے تیرے کرم کا سایہ

فاروق نازکی




آندھیوں کا خواب ادھورا رہ گیا
ہاتھ میں اک سوکھا پتا رہ گیا

فاروق شفق




آج سوچا ہے جاگوں گا میں رات میں
کچے پھل سا مجھے توڑتا کون ہے

فاروق شفق