EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

مری زندگی کا محور یہی سوز و ساز ہستی
کبھی جذب والہانہ کبھی ضبط عارفانہ

فاروق بانسپاری




ندیم تاریخ فتح دانش بس اتنا لکھ کر تمام کر دے
کہ شاطران جہاں نے آخر خود اپنی چالوں سے مات کھائی

فاروق بانسپاری




ستاروں سے شب غم کا تو دامن جگمگا اٹھا
مگر آنسو بہا کر ہجر کے ماروں نے کیا پایا

فاروق بانسپاری




یقیں مجھے بھی ہے وہ آئیں گے ضرور مگر
وفا کرے گی کہاں تک کہ زندگی ہی تو ہے

فاروق بانسپاری




آپ کی تصویر تھی اخبار میں
کیا سبب ہے آپ گھر جاتے نہیں

فاروق نازکی




اب فقیری میں کوئی بات نہیں
حشمت و جاہ و کرّ و فر دے دے

فاروق نازکی




بہکی ہوئی روحوں کو تسلی دے کر
کھوئے ہوئے اجسام کی جنت ہو جا

فاروق نازکی