EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

سخت تکلیف اٹھائی ہے تجھے جاننے میں
اس لئے اب تجھے آرام سے پہچانتے ہیں

فرحت احساس




سر سلامت لیے لوٹ آئے گلی سے اس کی
یار نے ہم کو کوئی ڈھنگ کی خدمت نہیں دی

فرحت احساس




شستہ زباں شگفتہ بیاں ہونٹھ گلفشاں
ساری ہیں تجھ میں خوبیاں اردو زبان کی

فرحت احساس




تبھی وہیں مجھے اس کی ہنسی سنائی پڑی
میں اس کی یاد میں پلکیں بھگونے والا تھا

فرحت احساس




تمام پیکر بدصورتی ہے مرد کی ذات
مجھے یقیں ہے خدا مرد ہو نہیں سکتا

فرحت احساس




تمام شہر کی آنکھوں میں ریزہ ریزہ ہوں
کسی بھی آنکھ سے اٹھتا نہیں مکمل میں

فرحت احساس




ترے ہونٹوں کے صحرا میں تری آنکھوں کے جنگل میں
جو اب تک پا چکا ہوں اس کو کھونا چاہتا ہوں میں

فرحت احساس