EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

تو فراہم نہ ہو مجھ کو یہ ہے مرضی تیری
تجھ کو جب چاہوں بلا لوں یہ اجازت مجھے دے

فرحت احساس




اس جگہ جا کے وہ بیٹھا ہے بھری محفل میں
اب جہاں میرے اشارے بھی نہیں جا سکتے

فرحت احساس




اس سے ملنے کے لئے جائے تو کیا جائے کوئی
اس نے دروازے پہ آئینہ لگا رکھا ہے

فرحت احساس




اسے خبر تھی کہ ہم وصال اور ہجر اک ساتھ چاہتے ہیں
تو اس نے آدھا اجاڑ رکھا ہے اور آدھا بنا دیا ہے

فرحت احساس




وہ چاند کہہ کے گیا تھا کہ آج نکلے گا
تو انتظار میں بیٹھا ہوا ہوں شام سے میں

فرحت احساس




وہ جو اک شور سا برپا ہے عمل ہے میرا
یہ جو تنہائی برستی ہے سزا میری ہے

فرحت احساس




یہ بے کنار بدن کون پار کر پایا
بہے چلے گئے سب لوگ اس روانی میں

فرحت احساس