تو فراہم نہ ہو مجھ کو یہ ہے مرضی تیری
تجھ کو جب چاہوں بلا لوں یہ اجازت مجھے دے
فرحت احساس
اس جگہ جا کے وہ بیٹھا ہے بھری محفل میں
اب جہاں میرے اشارے بھی نہیں جا سکتے
فرحت احساس
اس سے ملنے کے لئے جائے تو کیا جائے کوئی
اس نے دروازے پہ آئینہ لگا رکھا ہے
فرحت احساس
اسے خبر تھی کہ ہم وصال اور ہجر اک ساتھ چاہتے ہیں
تو اس نے آدھا اجاڑ رکھا ہے اور آدھا بنا دیا ہے
فرحت احساس
وہ چاند کہہ کے گیا تھا کہ آج نکلے گا
تو انتظار میں بیٹھا ہوا ہوں شام سے میں
فرحت احساس
وہ جو اک شور سا برپا ہے عمل ہے میرا
یہ جو تنہائی برستی ہے سزا میری ہے
فرحت احساس
یہ بے کنار بدن کون پار کر پایا
بہے چلے گئے سب لوگ اس روانی میں
فرحت احساس

