EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

میں چلا آیا ترا حسن تغافل لے کر
اب تری انجمن ناز میں رکھا کیا ہے

فنا نظامی کانپوری




موجوں کے اتحاد کا عالم نہ پوچھئے
قطرہ اٹھا اور اٹھ کے سمندر اٹھا لیا

فنا نظامی کانپوری




قید غم حیات بھی کیا چیز ہے فناؔ
راہ فرار مل نہ سکی عمر بھر پھرے

فنا نظامی کانپوری




رہتا ہے وہاں ذکر طہور و مئے کوثر
ہم آج سے کعبہ کو بھی مے خانہ کہیں گے

فنا نظامی کانپوری




رند جنت میں جا بھی چکے
واعظ محترم رہ گئے

فنا نظامی کانپوری




سب ہوں گے اس سے اپنے تعارف کی فکر میں
مجھ کو مرے سکوت سے پہچان جائے گا

فنا نظامی کانپوری




سہتا رہا جفائے دوست کہتا رہا ادائے دوست
میرے خلوص نے مرا جینا محال کر دیا

فنا نظامی کانپوری