EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

بے تکلف وہ اوروں سے ہیں
ناز اٹھانے کو ہم رہ گئے

فنا نظامی کانپوری




دل سے اگر کبھی ترا ارمان جائے گا
گھر کو لگا کے آگ یہ مہمان جائے گا

فنا نظامی کانپوری




دنیا پہ ایسا وقت پڑے گا کہ ایک دن
انسان کی تلاش میں انسان جائے گا

فنا نظامی کانپوری




دنیائے تصور ہم آباد نہیں کرتے
یاد آتے ہو تم خود ہی ہم یاد نہیں کرتے

فنا نظامی کانپوری




غیرت اہل چمن کو کیا ہوا
چھوڑ آئے آشیاں جلتا ہوا

فنا نظامی کانپوری




غم سے نازک ضبط غم کی بات ہے
یہ بھی دریا ہے مگر ٹھہرا ہوا

فنا نظامی کانپوری




گل تو گل خار تک چن لیے ہیں
پھر بھی خالی ہے گلچیں کا دامن

فنا نظامی کانپوری