ترک تعلقات کو اک لمحہ چاہیئے
لیکن تمام عمر مجھے سوچنا پڑا
فنا نظامی کانپوری
ترک وطن کے بعد ہی قدر وطن ہوئی
برسوں مری نگاہ میں دیوار و در پھرے
فنا نظامی کانپوری
ترتیب دے رہا تھا میں فہرست دشمنان
یاروں نے اتنی بات پہ خنجر اٹھا لیا
فنا نظامی کانپوری
ترے وعدوں پہ کہاں تک مرا دل فریب کھائے
کوئی ایسا کر بہانہ مری آس ٹوٹ جائے
فنا نظامی کانپوری
تو کچھ تو مرے ضبط محبت کا صلہ دے
ہنگام فناؔ دیدۂ پر نم کی طرح آ
فنا نظامی کانپوری
تو پھول کی مانند نہ شبنم کی طرح آ
اب کے کسی بے نام سے موسم کی طرح آ
فنا نظامی کانپوری
وہ آنکھ کیا جو عارض و رخ پر ٹھہر نہ جائے
وہ جلوہ کیا جو دیدہ و دل میں اتر نہ جائے
فنا نظامی کانپوری

