EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

یوں دکھاتا ہے آنکھیں ہمیں باغباں
جیسے گلشن پہ کچھ حق ہمارا نہیں

فنا نظامی کانپوری




زندگی نام ہے اک جہد مسلسل کا فناؔ
راہرو اور بھی تھک جاتا ہے آرام کے بعد

فنا نظامی کانپوری




آنکھ اٹھائی ہی تھی کہ کھائی چوٹ
بچ گئی آنکھ دل پہ آئی چوٹ

فانی بدایونی




آبادی بھی دیکھی ہے ویرانے بھی دیکھے ہیں
جو اجڑے اور پھر نہ بسے دل وہ نرالی بستی ہے

فانی بدایونی




آتے ہیں عیادت کو تو کرتے ہیں نصیحت
احباب سے غم خوار ہوا بھی نہیں جاتا

فانی بدایونی




اب نئے سر سے چھیڑ پردۂ ساز
میں ہی تھا ایک دکھ بھری آواز

فانی بدایونی




اے بے خودی ٹھہر کہ بہت دن گزر گئے
مجھ کو خیال یار کہیں ڈھونڈتا نہ ہو

فانی بدایونی