EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

اے فناؔ میری میت پہ کہتے ہیں وہ
آپ نے اپنا وعدہ وفا کر دیا

فنا بلند شہری




اس جہاں میں نہیں کوئی اہل وفا
اے فناؔ اس جہاں سے کنارا کرو

فنا بلند شہری




کیا بھول گئے ہیں وہ مجھے پوچھنا قاصد
نامہ کوئی مدت سے مرے کام نہ آیا

فنا بلند شہری




اٹھا پردہ تو محشر بھی اٹھے گا دیدۂ دل میں
قیامت چھپ کے بیٹھی ہے نقاب روئے قاتل میں

فنا بلند شہری




اندھیروں کو نکالا جا رہا ہے
مگر گھر سے اجالا جا رہا ہے

فنا نظامی کانپوری




آج اس سے میں نے شکوہ کیا تھا شرارتاً
کس کو خبر تھی اتنا برا مان جائے گا

فنا نظامی کانپوری




اے جلوۂ جانانہ پھر ایسی جھلک دکھلا
حسرت بھی رہے باقی ارماں بھی نکل جائے

فنا نظامی کانپوری