EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

اپنی ہی نگاہوں کا یہ نظارہ کہاں تک
اس مرحلۂ سعیٔ تماشا سے گزر جا

فانی بدایونی




اپنی جنت مجھے دکھلا نہ سکا تو واعظ
کوچۂ یار میں چل دیکھ لے جنت میری

فانی بدایونی




بہلا نہ دل نہ تیرگیٔ شام غم گئی
یہ جانتا تو آگ لگاتا نہ گھر کو میں

فانی بدایونی




بھر کے ساقی جام مے اک اور لا اور جلد لا
ان نشیلی انکھڑیوں میں پھر حجاب آنے کو ہے

فانی بدایونی




بیمار ترے جی سے گزر جائیں تو اچھا
جیتے ہیں نہ مرتے ہیں یہ مر جائیں تو اچھا

فانی بدایونی




دیر میں یا حرم میں گزرے گی
عمر تیرے ہی غم میں گزرے گی

فانی بدایونی




درد دل کی انہیں خبر کیا ہو
جانتا کون ہے پرائی چوٹ

فانی بدایونی