پاگل پن میں آ کر پاگل کچھ بھی تو کر سکتا ہے
خود کو عزت دار سمجھنے والے مجھ سے دور رہیں
فیض عالم بابر
جاگتے جاگتے اک عمر کٹی ہو جیسے
جان باقی ہے مگر سانس رکی ہو جیسے
فیض انور
جہاں فیضان آبادی بہت ہے
وہاں پر بھی گھنے جنگل رہے تھے
فیضان عارف
بہت قدیم نہیں کل کا واقعہ ہے یہ
میں اس زمین پہ اترا تھا تیری ذات کے ساتھ
فیضان ہاشمی
بس یہی سوچ کے رہتا ہوں میں زندہ اس میں
یہ محبت ہے کوئی مر نہیں سکتا اس میں
فیضان ہاشمی
جس پری پر مر مٹے تھے وہ پری زادی نہ تھی
بعد میں جانا کہ اس کے دونوں پر ہوتے تھے ہم
فیضان ہاشمی
خلا میں گروی رکھا اپنے سارے خوابوں کو
اور اس زمین پہ چھوٹا سا گھر لیا میں نے
فیضان ہاشمی

