میں اپنی خوشیاں اکیلے منایا کرتا ہوں
یہی وہ غم ہے جو تجھ سے چھپا ہوا ہے مرا
فیضان ہاشمی
میں اس کو خواب میں کچھ ایسے دیکھا کرتا تھا
تمام رات وہ سوتے میں مسکراتی تھی
فیضان ہاشمی
تیرا بوسہ ایسا پیالہ ہے جس میں سے
پانی پینے والا پیاسا رہ جائے گا
فیضان ہاشمی
تیری ہی سیر کے لیے آتا رہوں گا بار بار
تیرا تھا سات دن کا شوق میری ہے عمر بھر کی سیر
فیضان ہاشمی
وہ کیا خوشی تھی جو دل میں بحال رہتی تھی
مگر وجہ نہیں بنتی تھی مسکرانے کی
فیضان ہاشمی
جانے میں کون تھا لوگوں سے بھری دنیا میں
میری تنہائی نے شیشے میں اتارا ہے مجھے
فیضی
کسے ڈھونڈتا ہوں میں اپنے قرب و جوار میں
اے فراق صحبت دوستاں مجھے کیا ہوا
فیضی

