EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

میں اپنی خوشیاں اکیلے منایا کرتا ہوں
یہی وہ غم ہے جو تجھ سے چھپا ہوا ہے مرا

فیضان ہاشمی




میں اس کو خواب میں کچھ ایسے دیکھا کرتا تھا
تمام رات وہ سوتے میں مسکراتی تھی

فیضان ہاشمی




تیرا بوسہ ایسا پیالہ ہے جس میں سے
پانی پینے والا پیاسا رہ جائے گا

فیضان ہاشمی




تیری ہی سیر کے لیے آتا رہوں گا بار بار
تیرا تھا سات دن کا شوق میری ہے عمر بھر کی سیر

فیضان ہاشمی




وہ کیا خوشی تھی جو دل میں بحال رہتی تھی
مگر وجہ نہیں بنتی تھی مسکرانے کی

فیضان ہاشمی




جانے میں کون تھا لوگوں سے بھری دنیا میں
میری تنہائی نے شیشے میں اتارا ہے مجھے

فیضی




کسے ڈھونڈتا ہوں میں اپنے قرب و جوار میں
اے فراق صحبت دوستاں مجھے کیا ہوا

فیضی