EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

پھر نظر میں پھول مہکے دل میں پھر شمعیں جلیں
پھر تصور نے لیا اس بزم میں جانے کا نام

فیض احمد فیض




رقص مے تیز کرو ساز کی لے تیز کرو
سوئے مے خانہ سفیران حرم آتے ہیں

فیض احمد فیض




ساری دنیا سے دور ہو جائے
جو ذرا تیرے پاس ہو بیٹھے

فیض احمد فیض




سب قتل ہو کے تیرے مقابل سے آئے ہیں
ہم لوگ سرخ رو ہیں کہ منزل سے آئے ہیں

فیض احمد فیض




سجاؤ بزم غزل گاؤ جام تازہ کرو
''بہت سہی غم گیتی شراب کم کیا ہے''

فیض احمد فیض




شیخ صاحب سے رسم و راہ نہ کی
شکر ہے زندگی تباہ نہ کی

فیض احمد فیض




تیرے قول و قرار سے پہلے
اپنے کچھ اور بھی سہارے تھے

فیض احمد فیض