EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

میں صبح خواب سے جاگا تو یہ خیال آیا
جو رات میرے برابر تھا کیا ہوا اس کا

فیضی




پڑ گیا ہے خدا سے کام مجھے
اور خدا کا کوئی پتہ ہی نہیں

فیضی




سوچتا کیا ہوں ترے بارے میں چلتے چلتے
تو ذرا پوچھنا یہ بات ٹھہر کر مجھ سے

فیضی




ظلم کرتا ہوں ظلم سہتا ہوں
میں کبھی چین سے رہا ہی نہیں

فیضی




جب بلندی پر پہنچ جاتے ہیں لوگ
کس قدر چھوٹے نظر آتے ہیں لوگ

فیضی نظام پوری




یہ جو لاہور سے محبت ہے
یہ کسی اور سے محبت ہے

فخر عباس




آغاز تو اچھا تھا فناؔ دن بھی بھلے تھے
پھر راس مجھے عشق کا انجام نہ آیا

فنا بلند شہری