تیز ہے آج درد دل ساقی
تلخیٔ مے کو تیز تر کر دے
فیض احمد فیض
تمہاری یاد کے جب زخم بھرنے لگتے ہیں
کسی بہانے تمہیں یاد کرنے لگتے ہیں
فیض احمد فیض
انہیں کے فیض سے بازار عقل روشن ہے
جو گاہ گاہ جنوں اختیار کرتے رہے
فیض احمد فیض
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
اٹھ کر تو آ گئے ہیں تری بزم سے مگر
کچھ دل ہی جانتا ہے کہ کس دل سے آئے ہیں
فیض احمد فیض
ٹیگز:
| مشہور |
| 2 لائنیں شیری |
وہ آ رہے ہیں وہ آتے ہیں آ رہے ہوں گے
شب فراق یہ کہہ کر گزار دی ہم نے
فیض احمد فیض
وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا
وہ بات ان کو بہت نا گوار گزری ہے
فیض احمد فیض
وہ بتوں نے ڈالے ہیں وسوسے کہ دلوں سے خوف خدا گیا
وہ پڑی ہیں روز قیامتیں کہ خیال روز جزا گیا
فیض احمد فیض
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

