EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

وہ ایک پل کی رفاقت بھی کیا رفاقت تھی
جو دے گئی ہے مجھے عمر بھر کی تنہائی

اعجاز رحمانی




آج بھی بری کیا ہے کل بھی یہ بری کیا تھی
اس کا نام دنیا ہے یہ بدلتی رہتی ہے

اعجاز صدیقی




اور ذکر کیا کیجے اپنے دل کی حالت کا
کچھ بگڑتی رہتی ہے کچھ سنبھلتی رہتی ہے

اعجاز صدیقی




دنیا سبب شورش غم پوچھ رہی ہے
اک مہر خموشی ہے کہ ہونٹوں پہ لگی ہے

اعجاز صدیقی




آپ آئے ہیں حال پوچھا ہے
ہم نے ایسے بھی خواب دیکھے ہیں

اعجاز وارثی




اے سنگ آستاں مرے سجدوں کی لاج رکھ
آیا ہوں اعتراف شکست خودی لیے

اعجاز وارثی




برسوں میں بھی چھو جائے کسی کو تو غنیمت
خوشبوئے وفا یارو بڑی سست قدم ہے

اعجاز وارثی