مقصد زیست غم عشق ہے صحرا ہو کہ شہر
بیٹھ جائیں گے جہاں چاہو بٹھا دو ہم کو
احسان دانش
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
مرنے والے فنا بھی پردہ ہے
اٹھ سکے گر تو یہ حجاب اٹھا
احسان دانش
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
نہ جانے محبت کا انجام کیا ہے
میں اب ہر تسلی سے گھبرا رہا ہوں
احسان دانش
ٹیگز:
| محابب |
| 2 لائنیں شیری |
رہتا نہیں انسان تو مٹ جاتا ہے غم بھی
سو جائیں گے اک روز زمیں اوڑھ کے ہم بھی
احسان دانش
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
ستا لو مجھے زندگی میں ستا لو
کھلے گا پس مرگ احسان کیا تھا
احسان دانش
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
شورش عشق میں ہے حسن برابر کا شریک
سوچ کر جرم تمنا کی سزا دو ہم کو
احسان دانش
سنتا ہوں سرنگوں تھے فرشتے مرے حضور
میں جانے اپنی ذات کے کس مرحلے میں تھا
احسان دانش
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

