EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

مقصد زیست غم عشق ہے صحرا ہو کہ شہر
بیٹھ جائیں گے جہاں چاہو بٹھا دو ہم کو

احسان دانش




مرنے والے فنا بھی پردہ ہے
اٹھ سکے گر تو یہ حجاب اٹھا

احسان دانش




نہ جانے محبت کا انجام کیا ہے
میں اب ہر تسلی سے گھبرا رہا ہوں

احسان دانش




رہتا نہیں انسان تو مٹ جاتا ہے غم بھی
سو جائیں گے اک روز زمیں اوڑھ کے ہم بھی

احسان دانش




ستا لو مجھے زندگی میں ستا لو
کھلے گا پس مرگ احسان کیا تھا

احسان دانش




شورش عشق میں ہے حسن برابر کا شریک
سوچ کر جرم تمنا کی سزا دو ہم کو

احسان دانش




سنتا ہوں سرنگوں تھے فرشتے مرے حضور
میں جانے اپنی ذات کے کس مرحلے میں تھا

احسان دانش