EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

امید تو بندھ جاتی تسکین تو ہو جاتی
وعدہ نہ وفا کرتے وعدہ تو کیا ہوتا

چراغ حسن حسرت




یارب غم ہجراں میں اتنا تو کیا ہوتا
جو ہاتھ جگر پر ہے وہ دست دعا ہوتا

چراغ حسن حسرت




دن تو شکم کی آگ بجھانے میں جائے ہے
شکر خدا کہ کٹتی ہے دانشوروں میں رات

دائم غواصی




گفتگو میں وہ حلاوت وہ عمل میں اخلاص
اس کی ہستی پہ فرشتے کا گماں ہو جیسے

دائم غواصی




آؤ مل جاؤ کہ یہ وقت نہ پاؤ گے کبھی
میں بھی ہمراہ زمانہ کے بدل جاؤں گا

داغؔ دہلوی




آپ پچھتائیں نہیں جور سے توبہ نہ کریں
آپ کے سر کی قسم داغؔ کا حال اچھا ہے

داغؔ دہلوی




آتی ہے بات بات مجھے بار بار یاد
کہتا ہوں دوڑ دوڑ کے قاصد سے راہ میں

داغؔ دہلوی