EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

آؤ حسن یار کی باتیں کریں
زلف کی رخسار کی باتیں کریں

چراغ حسن حسرت




غیروں سے کہا تم نے غیروں سے سنا تم نے
کچھ ہم سے کہا ہوتا کچھ ہم سے سنا ہوتا

چراغ حسن حسرت




اک عشق کا غم آفت اور اس پہ یہ دل آفت
یا غم نہ دیا ہوتا یا دل نہ دیا ہوتا

چراغ حسن حسرت




اس طرح کر گیا دل کو مرے ویراں کوئی
نہ تمنا کوئی باقی ہے نہ ارماں کوئی

چراغ حسن حسرت




قبول اس بارگہہ میں التجا کوئی نہیں ہوتی
الٰہی یا مجھی کو التجا کرنا نہیں آتا

چراغ حسن حسرت




رات کی بات کا مذکور ہی کیا
چھوڑیئے رات گئی بات گئی

چراغ حسن حسرت




امید وصل نے دھوکے دیئے ہیں اس قدر حسرتؔ
کہ اس کافر کی ہاں بھی اب نہیں معلوم ہوتی ہے

چراغ حسن حسرت