آؤ حسن یار کی باتیں کریں
زلف کی رخسار کی باتیں کریں
چراغ حسن حسرت
ٹیگز:
| حسین |
| 2 لائنیں شیری |
غیروں سے کہا تم نے غیروں سے سنا تم نے
کچھ ہم سے کہا ہوتا کچھ ہم سے سنا ہوتا
چراغ حسن حسرت
اک عشق کا غم آفت اور اس پہ یہ دل آفت
یا غم نہ دیا ہوتا یا دل نہ دیا ہوتا
چراغ حسن حسرت
اس طرح کر گیا دل کو مرے ویراں کوئی
نہ تمنا کوئی باقی ہے نہ ارماں کوئی
چراغ حسن حسرت
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
قبول اس بارگہہ میں التجا کوئی نہیں ہوتی
الٰہی یا مجھی کو التجا کرنا نہیں آتا
چراغ حسن حسرت
ٹیگز:
| التجا |
| 2 لائنیں شیری |
رات کی بات کا مذکور ہی کیا
چھوڑیئے رات گئی بات گئی
چراغ حسن حسرت
ٹیگز:
| راٹ |
| 2 لائنیں شیری |
امید وصل نے دھوکے دیئے ہیں اس قدر حسرتؔ
کہ اس کافر کی ہاں بھی اب نہیں معلوم ہوتی ہے
چراغ حسن حسرت

