EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ہنسی بسملؔ کی حالت پر کسی کو
کبھی آتی تھی اب آتی نہیں ہے

بسملؔ  عظیم آبادی




ہو نہ مایوس خدا سے بسملؔ
یہ برے دن بھی گزر جائیں گے

بسملؔ  عظیم آبادی




اک غلط سجدے سے کیا ہوتا ہے واعظ کچھ نہ پوچھ
عمر بھر کی سب ریاضت خاک میں مل جائے ہے

بسملؔ  عظیم آبادی




جرأت شوق تو کیا کچھ نہیں کہتی لیکن
پاؤں پھیلانے نہیں دیتی ہے چادر مجھ کو

بسملؔ  عظیم آبادی




خزاں جب تک چلی جاتی نہیں ہے
چمن والوں کو نیند آتی نہیں ہے

بسملؔ  عظیم آبادی




کیا کریں جام و سبو ہاتھ پکڑ لیتے ہیں
جی تو کہتا ہے کہ اٹھ جائیے مے خانے سے

بسملؔ  عظیم آبادی




مجبوریوں کو اپنی کہیں کیا کسی سے ہم
لائے گئے ہیں، آئے نہیں ہیں خوشی سے ہم

بسملؔ  عظیم آبادی