EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

سمٹا ترا خیال تو دل میں سما گیا
پھیلا تو اس قدر کہ سمندر لگا مجھے

بسمل آغائی




اللہ تیرے ہاتھ ہے اب آبروئے شوق
دم گھٹ رہا ہے وقت کی رفتار دیکھ کر

بسملؔ  عظیم آبادی




بسملؔ بتوں کا عشق مبارک تمہیں مگر
اتنے نڈر نہ ہو کہ خدا کا بھی ڈر نہ ہو

بسملؔ  عظیم آبادی




داستاں پوری نہ ہونے پائی
زندگی ختم ہوئی جاتی ہے

بسملؔ  عظیم آبادی




دیکھا نہ تم نے آنکھ اٹھا کر بھی ایک بار
گزرے ہزار بار تمہاری گلی سے ہم

بسملؔ  عظیم آبادی




ایک دن وہ دن تھے رونے پہ ہنسا کرتے تھے ہم
ایک یہ دن ہیں کہ اب ہنسنے پہ رونا آئے ہے

بسملؔ  عظیم آبادی




غیروں نے غیر جان کے ہم کو اٹھا دیا
بیٹھے جہاں بھی سایۂ دیوار دیکھ کر

بسملؔ  عظیم آبادی