سمٹا ترا خیال تو دل میں سما گیا
پھیلا تو اس قدر کہ سمندر لگا مجھے
بسمل آغائی
اللہ تیرے ہاتھ ہے اب آبروئے شوق
دم گھٹ رہا ہے وقت کی رفتار دیکھ کر
بسملؔ عظیم آبادی
بسملؔ بتوں کا عشق مبارک تمہیں مگر
اتنے نڈر نہ ہو کہ خدا کا بھی ڈر نہ ہو
بسملؔ عظیم آبادی
داستاں پوری نہ ہونے پائی
زندگی ختم ہوئی جاتی ہے
بسملؔ عظیم آبادی
دیکھا نہ تم نے آنکھ اٹھا کر بھی ایک بار
گزرے ہزار بار تمہاری گلی سے ہم
بسملؔ عظیم آبادی
ایک دن وہ دن تھے رونے پہ ہنسا کرتے تھے ہم
ایک یہ دن ہیں کہ اب ہنسنے پہ رونا آئے ہے
بسملؔ عظیم آبادی
غیروں نے غیر جان کے ہم کو اٹھا دیا
بیٹھے جہاں بھی سایۂ دیوار دیکھ کر
بسملؔ عظیم آبادی

