نہ اپنے ضبط کو رسوا کرو ستا کے مجھے
خدا کے واسطے دیکھو نہ مسکرا کے مجھے
بسملؔ عظیم آبادی
رہرو راہ محبت رہ نہ جانا راہ میں
لذت صحرا نوردی دورئ منزل میں ہے
بسملؔ عظیم آبادی
سودا وہ کیا کرے گا خریدار دیکھ کر
گھبرا گیا جو گرمئ بازار دیکھ کر
بسملؔ عظیم آبادی
تم سن کے کیا کرو گے کہانی غریب کی
جو سب کی سن رہا ہے کہیں گے اسی سے ہم
بسملؔ عظیم آبادی
اگل نہ سنگ ملامت خدا سے ڈر ناصح
ملے گا کیا تجھے شیشوں کے ٹوٹ جانے سے
بسملؔ عظیم آبادی
وقت آنے دے دکھا دیں گے تجھے اے آسماں
ہم ابھی سے کیوں بتائیں کیا ہمارے دل میں ہے
بسملؔ عظیم آبادی
یہ کہہ کے دیتی جاتی ہے تسکیں شب فراق
وہ کون سی ہے رات کہ جس کی سحر نہ ہو
بسملؔ عظیم آبادی

