اب یہی دکھ ہے ہمیں میں تھی کمی اس میں نہ تھی
اس کو چاہا تھا مگر اپنی طرح چاہا نہ تھا
بمل کرشن اشک
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
ایسا ہوا کہ گھر سے نہ نکلا تمام دن
جیسے کہ خود سے آج کوئی کام تھا مجھے
بمل کرشن اشک
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
بدن ڈھانپے ہوئے پھرتا ہوں یعنی
ہوس کے نام پر دھاگا نہیں ہے
بمل کرشن اشک
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
بدن کے لوچ تک آزاد ہے وہ
اسے تہذیب نے باندھا نہیں ہے
بمل کرشن اشک
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
دائرہ کھینچ کے بیٹھا ہوں بڑی مدت سے
خود سے نکلوں تو کسی اور کا رستہ دیکھوں
بمل کرشن اشک
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
دیکھنے نکلا ہوں دنیا کو مگر کیا دیکھوں
جس طرف آنکھ اٹھاؤں وہی چہرہ دیکھوں
بمل کرشن اشک
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
ایک دنیا نے تجھے دیکھا ہے لیکن میں نے
جیسے دیکھا ہے تجھے ویسے نہ دیکھا ہوتا
بمل کرشن اشک
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

