EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

اب یہی دکھ ہے ہمیں میں تھی کمی اس میں نہ تھی
اس کو چاہا تھا مگر اپنی طرح چاہا نہ تھا

بمل کرشن اشک




ایسا ہوا کہ گھر سے نہ نکلا تمام دن
جیسے کہ خود سے آج کوئی کام تھا مجھے

بمل کرشن اشک




بدن ڈھانپے ہوئے پھرتا ہوں یعنی
ہوس کے نام پر دھاگا نہیں ہے

بمل کرشن اشک




بدن کے لوچ تک آزاد ہے وہ
اسے تہذیب نے باندھا نہیں ہے

بمل کرشن اشک




دائرہ کھینچ کے بیٹھا ہوں بڑی مدت سے
خود سے نکلوں تو کسی اور کا رستہ دیکھوں

بمل کرشن اشک




دیکھنے نکلا ہوں دنیا کو مگر کیا دیکھوں
جس طرف آنکھ اٹھاؤں وہی چہرہ دیکھوں

بمل کرشن اشک




ایک دنیا نے تجھے دیکھا ہے لیکن میں نے
جیسے دیکھا ہے تجھے ویسے نہ دیکھا ہوتا

بمل کرشن اشک