EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ادھر ادھر مری آنکھیں تجھے پکارتی ہیں
مری نگاہ نہیں ہے زبان ہے گویا

بسمل سعیدی




عشق بھی ہے کس قدر بر خود غلط
ان کی بزم ناز اور خودداریاں

بسمل سعیدی




کعبے میں مسلمان کو کہہ دیتے ہیں کافر
بت خانے میں کافر کو بھی کافر نہیں کہتے

بسمل سعیدی




کسی کے ستم اس قدر یاد آئے
زباں تھک گئی مہرباں کہتے کہتے

بسمل سعیدی




کیا تباہ تو دلی نے بھی بہت بسملؔ
مگر خدا کی قسم لکھنؤ نے لوٹ لیا

بسمل سعیدی




میرے دل کو بھی پڑا رہنے دو
چیز رکھی ہوئی کام آتی ہے

بسمل سعیدی




محبت میں خدا جانے ہوئیں رسوائیاں کس سے
میں ان کا نام لیتا ہوں وہ میرا نام لیتے ہیں

بسمل سعیدی