جسم میں خواہش نہ تھی احساس میں کانٹا نہ تھا
اس طرح جاگا کہ جیسے رات بھر سویا نہ تھا
بمل کرشن اشک
میں بند کمرے کی مجبوریوں میں لیٹا رہا
پکارتی پھری بازار میں ہوا مجھ کو
بمل کرشن اشک
پڑنے لگے جو زور ہوس کا تو کیا نگاہ
ہر زاویے سے جسم نکلتا دکھائے دے
بمل کرشن اشک
سبھی انساں فرشتے ہو گئے ہیں
کسی دیوار میں سایہ نہیں ہے
بمل کرشن اشک
تم تو کچھ ایسے بھول گئے ہو جیسے کبھی واقف ہی نہیں تھے
اور جو یوں ہی کرنا تھا صاحب کس لیے اتنا پیار کیا تھا
بمل کرشن اشک
اسے چھت پر کھڑے دیکھا تھا میں نے
کہ جس کے گھر کا دروازہ نہیں ہے
بمل کرشن اشک
ہر سمت ہے ویرانی سی ویرانی کا عالم
اب گھر سا نظر آنے لگا ہے مرا گھر بھی
بسمل آغائی

