EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

جسم میں خواہش نہ تھی احساس میں کانٹا نہ تھا
اس طرح جاگا کہ جیسے رات بھر سویا نہ تھا

بمل کرشن اشک




میں بند کمرے کی مجبوریوں میں لیٹا رہا
پکارتی پھری بازار میں ہوا مجھ کو

بمل کرشن اشک




پڑنے لگے جو زور ہوس کا تو کیا نگاہ
ہر زاویے سے جسم نکلتا دکھائے دے

بمل کرشن اشک




سبھی انساں فرشتے ہو گئے ہیں
کسی دیوار میں سایہ نہیں ہے

بمل کرشن اشک




تم تو کچھ ایسے بھول گئے ہو جیسے کبھی واقف ہی نہیں تھے
اور جو یوں ہی کرنا تھا صاحب کس لیے اتنا پیار کیا تھا

بمل کرشن اشک




اسے چھت پر کھڑے دیکھا تھا میں نے
کہ جس کے گھر کا دروازہ نہیں ہے

بمل کرشن اشک




ہر سمت ہے ویرانی سی ویرانی کا عالم
اب گھر سا نظر آنے لگا ہے مرا گھر بھی

بسمل آغائی