نہیں ہے خواب دیوانے کا ہستی
یہ دنیا صرف اک دھوکا نہیں ہے
بلقیس ظفیر الحسن
تمام لالہ و گل کے چراغ روشن ہیں
شجر شجر پہ شگوفوں میں جل رہی ہے ہوا
بلقیس ظفیر الحسن
تیری تو بلقیسؔ نرالی ہی باتیں ہیں
اس دنیا میں کیسے ترا گزارا ہوگا
بلقیس ظفیر الحسن
اٹھ کر چلے گئے تو کبھی پھر نہ آئیں گے
پھر لاکھ تم بلاؤ صدائیں دیا کرو
بلقیس ظفیر الحسن
یوں چپ رہا کرے سے تو ہو جائے ہے جنوں
زخم نہاں کرید کے کچھ رو لیا کرو
بلقیس ظفیر الحسن
ذرا سی دیر بھی رکتا تو کچھ پتا چلتا
وہ رنگ تھا کہ تھی خوشبو سحاب سا کیا تھا
بلقیس ظفیر الحسن
اب کے بسنت آئی تو آنکھیں اجڑ گئیں
سرسوں کے کھیت میں کوئی پتہ ہرا نہ تھا
بمل کرشن اشک

