EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ہر دل عزیز وہ بھی ہے ہم بھی ہیں خوش مزاج
اب کیا بتائیں کیسے ہماری نہیں بنی

بلقیس ظفیر الحسن




جانے کیا کچھ ہے آج ہونے کو
جی مرا چاہتا ہے رونے کو

بلقیس ظفیر الحسن




جن میں کھو کر ہم خود کو بھی بھول گئے ہیں
کیا ہم کو بھی ان آنکھوں نے ڈھونڈا ہوگا

بلقیس ظفیر الحسن




خود اپنی فکر اگاتی ہے وہم کے کانٹے
الجھ الجھ کے مرا ہر سوال ٹھہرا ہے

بلقیس ظفیر الحسن




خود پہ یہ ظلم گوارا نہیں ہوگا ہم سے
ہم تو شعلوں سے نہ گزریں گے نہ سیتا سمجھیں

بلقیس ظفیر الحسن




کتنے سادہ ہیں ہم کہ بیٹھے ہیں
داغ دل آنسوؤں سے دھونے کو

بلقیس ظفیر الحسن




میری طرح ٹوٹے آئینے میں اس نے بھی
ٹکڑے ٹکڑے اپنے آپ کو پایا ہوگا

بلقیس ظفیر الحسن