ہر دل عزیز وہ بھی ہے ہم بھی ہیں خوش مزاج
اب کیا بتائیں کیسے ہماری نہیں بنی
بلقیس ظفیر الحسن
جانے کیا کچھ ہے آج ہونے کو
جی مرا چاہتا ہے رونے کو
بلقیس ظفیر الحسن
جن میں کھو کر ہم خود کو بھی بھول گئے ہیں
کیا ہم کو بھی ان آنکھوں نے ڈھونڈا ہوگا
بلقیس ظفیر الحسن
خود اپنی فکر اگاتی ہے وہم کے کانٹے
الجھ الجھ کے مرا ہر سوال ٹھہرا ہے
بلقیس ظفیر الحسن
خود پہ یہ ظلم گوارا نہیں ہوگا ہم سے
ہم تو شعلوں سے نہ گزریں گے نہ سیتا سمجھیں
بلقیس ظفیر الحسن
کتنے سادہ ہیں ہم کہ بیٹھے ہیں
داغ دل آنسوؤں سے دھونے کو
بلقیس ظفیر الحسن
میری طرح ٹوٹے آئینے میں اس نے بھی
ٹکڑے ٹکڑے اپنے آپ کو پایا ہوگا
بلقیس ظفیر الحسن

