EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

انہونی کچھ ضرور ہوئی دل کے ساتھ آج
نادان تھا مگر یہ دوانا کبھی نہ تھا

بلقیس ظفیر الحسن




اپنی تو کوئی بات بنائے نہیں بنی
کچھ ہم نہ کہہ سکے تو کچھ اس نے نہیں سنی

بلقیس ظفیر الحسن




بس ایک جان بچی تھی چھڑک دی راہوں پر
دل غریب نے اک اہتمام سادہ کیا

بلقیس ظفیر الحسن




دہشت زدہ زمیں پر وحشت بھرے مکاں یہ
اس شہر بے اماں کا آخر کوئی خدا ہے

بلقیس ظفیر الحسن




در بدر کی خاک تھی تقدیر میں
ہم لیے کاندھوں پہ گھر چلتے رہے

بلقیس ظفیر الحسن




ہے یوں کہ کچھ تو بغاوت سرشت ہم بھی ہیں
ستم بھی اس نے ضرورت سے کچھ زیادہ کیا

بلقیس ظفیر الحسن




ہم تو بیگانے سے خود کو بھی ملے ہیں بلقیسؔ
کس توقع پہ کسی شخص کو اپنا سمجھیں

بلقیس ظفیر الحسن