EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

مثل سچ ہے بشر کی قدر نعمت بعد ہوتی ہے
سنا ہے آج تک ہم کو بہت وہ یاد کرتے ہیں

بھارتیندو ہریش چندر




نہ بوسہ لینے دیتے ہیں نہ لگتے ہیں گلے میرے
ابھی کم عمر ہیں ہر بات پر مجھ سے جھجکتے ہیں

بھارتیندو ہریش چندر




قبر میں راحت سے سوئے تھے نہ تھا محشر کا خوف
بعض آئے اے مسیحا ہم ترے اعجاز سے

بھارتیندو ہریش چندر




رخ روشن پہ اس کی گیسوئے شب گوں لٹکتے ہیں
قیامت ہے مسافر راستہ دن کو بھٹکتے ہیں

بھارتیندو ہریش چندر




یہ چار دن کے تماشے ہیں آہ دنیا کے
رہا جہاں میں سکندر نہ اور نہ جم باقی

بھارتیندو ہریش چندر




یہ کہہ دو بس موت سے ہو رخصت کیوں ناحق آئی ہے اس کی شامت
کہ در تلک وہ مسیح خصلت مری عیادت کو آ چکے ہیں

بھارتیندو ہریش چندر




عجیب ڈھنگ سے تقسیم کار کی اس نے
سو جس کو دل نہ دیا اس کو دل ربائی دی

بلال احمد